مارک اپ اور مارجن ایک نہیں
چیز 100 روپے کی خریدی اور 150 روپے کی بیچی تو منافع 50 روپے ہے۔ مارک اپ لاگت کے مقابل ہے: 50 ÷ 100 × 100 = 50 فیصد۔ مارجن فروخت کی قیمت کے مقابل ہے: 50 ÷ 150 × 100 تقریباً 33.3 فیصد۔
رقم دونوں میں ایک ہے، فیصد کی بنیاد الگ ہے۔ 50 فیصد مارک اپ کو 50 فیصد مارجن سمجھنے سے قیمت یا ڈسکاؤنٹ کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے۔
مال کی لاگت کے بعد منافع
مجموعی منافع = فروخت − فروخت شدہ مال کی لاگت۔ مجموعی مارجن = مجموعی منافع ÷ فروخت × 100۔
فروخت 500,000 روپے اور فروخت شدہ مال کی لاگت 350,000 روپے ہو تو مجموعی منافع 150,000 روپے، یعنی 30 فیصد ہے۔ یہ کرایے، تنخواہ اور دوسرے جاری اخراجات سے پہلے کا نتیجہ ہے۔
اخراجات کے بعد خالص منافع
خالص منافع = مجموعی منافع − کاروباری اخراجات۔ خالص مارجن = خالص منافع ÷ فروخت × 100۔
اسی مثال میں اخراجات 90,000 روپے ہوں تو 150,000 − 90,000 = 60,000 روپے بچتے ہیں۔ 60,000 ÷ 500,000 × 100 = 12 فیصد۔ وصول شدہ کیش کو براہ راست منافع نہ سمجھیں۔
حساب کہاں غلط ہوتا ہے؟
لاگت درج نہ ہو تو مارجن اندازہ ہے۔ دراز میں پرانا ادھار یا گاہک کی ایڈوانس رقم بھی آ سکتی ہے۔ ہر چیز پر ایک اوسط فیصد لگانے سے نقصان والی پروڈکٹس چھپ سکتی ہیں۔
- اصل پروڈکٹس کی لاگت درج کریں۔
- کیش، فروخت اور منافع الگ سمجھیں۔
- ڈسکاؤنٹ اور واپسی کا اثر دیکھیں۔
- ہر پروڈکٹ کا نتیجہ مجموعی اوسط سے بھی ملائیں۔
مارجن بہتر کرنے کے عملی قدم
تیز فروخت اور مناسب مارجن والی چیزیں پہچانیں۔ کم مارجن پر سپلائر کی لاگت اور فروخت کی قیمت چیک کریں۔ خراب، زائدالمیعاد یا غائب مال کی وجہ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ درج کریں۔
ہر ڈسکاؤنٹ نتیجہ بدل سکتی ہے۔ ناقابل وصول ادھار بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ رپورٹ ملاتے وقت ایک ہی برانچ، مدت اور مکمل سنک شدہ ریکارڈ استعمال کریں۔
سافٹ ویئر میں رپورٹ چیک کریں
invo.pk میں درج لاگت اور فروخت کے مطابق دستیاب رپورٹ دیکھیں۔ سافٹ ویئر غیر درج لاگت یا خرچ خود نہیں جانتا۔ ضروری PDF یا دستیاب برآمد شدہ رپورٹ اپنے اکاؤنٹنٹ سے بھی چیک کروائیں۔